فہرست
رقیہ کسے کہتے ہیں؟
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟222222222222222222222
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟222222222222222222222
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟222222222222222222222
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟222222222222222222222
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟222222222222222222222
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
رقیہ کسے کہتے ہیں؟222222222222222222222
"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔
شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔
نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔
ای میل
info@alRuqyahOnline.com
+923043218811
صرف واٹس ایپ کے لئے
برائے مہربانی کال یا ایس ایم ایس مت کیجئے۔