نظر بد کیا ہے؟

نبی کریم ﷺ کے مختلف ارشادات کا مفہوم کہ

نظر بد حق ہے ، نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔(صحیح ابن ماجہ 2827)

اللہ تعالیٰ نے قضا اور تقدیر میں جو فیصلہ کر لیا ہے اُس کے بعد میری اُمت میں سب سے زیادہ موت’’ نظر بد‘‘ سے ہو گی۔(صحیح الجامع1206 /الصحیحہ 747)

’’نظر‘‘ آدمی کو ’’ قبر ‘‘ تک اور اُونٹ کو ’’ ہانڈی ‘‘ تک پہنچا دیتی ہے۔(صحیح الجامع4144 / الصحیحہ 1249 )

’’نظر‘‘ آدمی کو پہاڑ سے ’’دھکا‘‘ دے دیتی ہے۔(السلسلہ الصحیحہ 1250 )

کوئی چیز تقدیر سے آگے نہیں جاتی،لیکن اگر کوئی چیز ایسی ہوتی تو، وہ’’ نظر‘‘ ہوتی۔(صحیح مسلم 2188)

نظر بد سے اللہ کی پناہ مانگو

نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ نظر بد حق ہے، نظر بد سے اللہ کی پناہ مانگو۔

احادیث کے مفہوم سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ’’ نظر‘‘ آدمی کو ’’ قتل ‘‘ کر دیتی ہے۔

رسول اللہ ﷺکے دور کا ایک واقعہ ہے۔

ایک صحابی حضرت سَہل ابن حُنیف ؓ کُرتہ اتار کے بیٹھے ہوئے تھے ۔

ایک دوسرے صحابی حضرت عامر ابن ربیعہ ؓ نے حضرت سَہل ابن حُنیف ؓ کو اس طرح بیٹھے دیکھ کر(حیرانی سے) کہا کہ

" اتنا خوبصورت بدن تو میں نے کسی کنواری لڑکی کا بھی نہیں دیکھا"۔

تو تھوڑی دیر میں حضرت سَہل ابن حُنیف ؓ کو بخار چڑھ گیا ، اور تکلیف کی شدت سے تڑپنے لگے ۔صحابہ ؓ اُن کو نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے پوچھا جس کامفہوم ہے کہ" تمہارا جسم دیکھ کر کسی نے کچھ کہا تھا "؟

عرض کیا کہ ہاں ! پوچھا کون ہے وہ؟ عرض کیا کہ عامر ابن ربیعہ ؓ ۔

آپ ﷺ نے اُن کو بلوایا۔جب وہ آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے پہلا جملہ یہ فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ

تم میں سے کیوں کوئی نظر کے ذریعے سے اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے۔جب تم نے اُن کو دیکھا تو اُن کو برکت کی دعا کیوں نہیں دی۔ ماشااللہ ، بارک اللہ کیوں نہیں کہا۔

آپ ﷺ نے علاج یہ کیا کہ عامر ابن ربیعہ ؓ کو وضو کرنے کو کہا اور وضو کا پانی ایک برتن میں جمع کرایا ۔اور اُ س پانی کو حضرت سَہل ابن حُنیفؓ کی پیٹھ پر بہایا ۔۔

تو اُس سے اُن پر نظر بد کا جو اثر تھا وہ ختم ہو گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔(صحیح ابن ماجہ 3509)

یاد رہے کہ حضرت عامر ابن ربیعہ ؓ بدری صحابی ہیں۔اور انھوں نے تعجب کی نظر سے دیکھا، نہ کہ حسد ۔یعنی تعریف کی، مگر برکت کی دعا نہ دے سکے ۔اور

شیطان انسان کا دشمن ہے اور انسان کی تعریف پسند نہیں کرتا ۔لہٰذا فوراً حملہ آور ہو گیا۔

ہمیں چاہیئے کہ جب بھی کسی دوسرے کی اچھی چیز یا اچھی حالت دیکھیں یا کسی کی تعریف کریں

تو اُسے برکت کی دعا ضروردیجئے۔ ما شا اللہ ، بارک اللہ ضرور کہیے۔

نظر کیوں لگتی ہے؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ

’’اپنے کاموں کو اُن کے انجام تک پہنچانے‘‘ میں اپنی ’’ نعمتوں کو راز میں رکھنے‘‘ سے ’’مدد‘‘ حاصل کرو۔کیونکہ ہر نعمت والے" حسد " کا شکار ہیں۔(المعجم الاوسط : 2455 )

جب ہم اپنی کسی نعمت (کاروبار، جائیداد، اچھا عہدہ، گھر ، گھر کی چیزیں، اچھی سواری ، اچھی تعلیم، علمی مضبوطی، فنی مہارت، ذاتی خوبصورتی ، خوبصورت اولاد، کثرتِ اولاد،خوبصورت بیوی/شوہر، آسائشات ، سہولیات یا کوئی ایسے حالات ) جوہمارے لئے

’’ عام سی بات‘‘ ہوں مگر دوسرے شخص کےلئے ’’خاص حیثیت ‘‘رکھتے ہوں )

یاہم اپنی مستقبل میں کسی نئی منصوبہ بندی (کاروبار، نیا مکان ، دوکان ، نئی ملازمت، نئی انویسٹ منٹ) کا کسی دوسرے شخص کے سامنے ذکر کرتے ہیں تو

اُس شخص کی مختلف کیفیات دکھائی دیتی ہیں۔یا تو وہ شخص

• خوش ہوتا ہے

• حیران ہوتا ہے

احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتا ہے

حسد میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

• پہلی دو حالتو ں میں انسان کی تعریف یا ستائش کی جاتی ہے جیسے واہ ۔۔۔بہت خوب۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔زبردست، کمال کر دیا ۔۔۔وغیرہ وغیرہ ایسی صورت میں اگر دوسرا شخص آپکی اپنی یا آپکی چیز کی تعریف کے ساتھ اللہ پاک کا ذکر نہیں کرتا ، آپ کو برکت کی دعا نہیں دیتا ، تو فوراً نظر لگ جاتی ہے ۔

آخری دو حالتوں میں احساسِ محرومی کا شکارحسرت بھری خاموشی اختیار کر لیتا ہے اور حسد میں مبتلا ہونے والا دل میں کڑھنا شروع کر دیتا ہے

بلکہ بعض اوقات زبان سے بھی اُس کا اظہار کردیتا ہے۔اورنظر لگ جاتی ہے ۔

آپ کی نعمت کودیکھ کر’’کسی کا ‘‘ جلنے کا جذبہ یا اللہ پاک کے ذکر کے بغیر سرا ہنے یا سراہے جانے کا جذبہ اپنی طرف سے ہو یا دوسرے کی طرف سے ’’ نظر بد ‘‘ کا باعث بنتا ہے۔

انسان کو’’ اپنی یا اپنوں‘‘ کی بھی نظر لگتی ہے۔

آئینہ دیکھ کے خود کو سراہنا ، مگر آئینہ دیکھنے کی مسنون دُعا نہ پڑھنا

کسی اپنے کو یا اُس کی کسی چیز کو دیکھ کر خوش ہونا، مگر اللہ پاک کاذکر نہ کرنا

اپنے آپ میں اپنی چیزوں، نعمتوں، صلاحیتیوں پہ فخر کرنا اور اُنہیں اللہ پاک کی طرف ۔۔۔منسوب نہ کرنا

خود کو دوسرے سے ۔۔۔افضل سمجھنا

نظر بد کی وجہ سے پیدا ہونے اثرات

• لاعلاج سمجھی جانے والی بیماریاں

• ہاتھ پاؤں کا ٹیڑھا ہوجانا

• گندے گندے وسوسے اور خیالات

• سمجھ میں نہ آنیوالی بیماریاں

• بے وجہ حادثات

نظر بد کی علامات

مولانا جنید صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک عربی عامل کے مطابق نظربد کی 18 علامتیں ہیں جو کہ درجہ ذیل ہیں۔

1. جسم میں کمزوری

2. کھانےکی رغبت نہ ہونا

3. جسم میں " حرارت " محسوس ہونا

4. کثرت سے پیٹ میں " گیس " بننا

5. رونا " بغیر وجہ کے"

6. سینے میں گھٹن محسوس ہونا

7. جمائی لیتے ہوئے ۔۔۔آنکھوں میں آنسو آنا

8. سُست رہنا۔۔۔ کام کی طاقت نہ ہونا (کبھی کبھی چکر یا اُلٹی کی کیفیت)

9. دل کا دھڑکنا اور بے چین ہونا

10. سینے میں گھٹن ۔۔۔ "عصر کے بعد سے آدھی رات تک"

11. سر میں درد رہنا

12. بدن میں درد کا " گھومنا "

13. اعمال سے وحشت ہونا (نماز ، ذکر ، تلاوت وغیرہ)

14. دوستوں یا رشتے داروں سے ملنے میں نفرت کرنا (ملنے کو دل نہ چاہنا)

15. عورتوں کے بال گرنا (کوئی بھی علاج کر لیں ، بال گرتے رہیں گے)

16. کاروبار، منصب، عہدے کا برباد ہو جانا( کسی خاص وجہ کےبغیر)

17. وقت کی پابندی نہ کر پانا (چاہنے کا باوجود)

18. کسی کا م میں " ماہر ہونا "۔۔۔ اور اُسے کرتے ہوئے۔۔۔" بیمار" ہو جانا ۔۔۔یا۔۔۔" سُست" پڑ جانا

نظر بد کا علاج

(نظر لگانے والے کا پتہ ہوکہ کس کی نظر لگی ہے)

مثلاً "عدنان" کو " امجد " کی نظر لگی ہے ۔

احادیث نبویہﷺ میں "نظر کے توڑ " کا جو طریقہ آیا ہے جیسا کے شروع میں واقعہ بیان کیا گیا اُس کے مطابق

"امجد" (نظر لگانے والا) وضو کرے ،

وضو کیے ہوئے پانی کو ایک برتن میں جمع کر لیں

اور اُس پانی کو" عدنان "(جسے نظر لگی ہے) کی پیٹھ پر بہائیں ۔انشا اللہ نظر بد فوراً ٹوٹ جائے گی۔

نظر بد کا علاج

(جب یہ معلوم نہ ہو کہ "کس کی نظر" لگی ہے )

(بیت الخلا سے باہر ) ایک بالٹی پانی لیں ، اور اُس پانی میں دونوں ہاتھوں کو ڈبو کر یہ پڑھیں

7 بار درودشریف (کوئی بھی)

7 بار سورۃ فاتحہ

7 بار آیت الکرسی

7 بار سوۃ الکافرون

7 بار سورۃ الاخلاص

7 بار سورۃ الفلق

7 بار سورۃ الناس

7بار درودشریف (کوئی بھی)

پڑھنے کے بعدہاتھوں کو بالٹی سے نکال لیں (پانی پہ " دَم " نہیں کرنا) اور اُس پانی سے(بیت الخلا میں جا کے) غسل کر لیں۔

یہ عمل 21 دن کریں (فرق 3 سے 4 دن میں ہی محسوس ہو جائے گا)اور

جب 21 دن مکمل ہو جائیں تو "ہفتے میں ایک بار، کسی بھی دن" اس طریقے سے غسل ضرور کرتے رہیں ۔

کیونکہ نظر بد تو کبھی بھی لگ سکتی ہےاس عمل سے انشااللہ مستقل حفاظت رہے گی۔

• ایسا مریض جو خود نہ پڑھ سکتا ہو وہ کسی سے پڑھوا لے ،اور پڑھنے والے کے ساتھ خود بھی پانی میں ہاتھ ڈبو کے بیٹھے۔

• چھوٹے بچوں پہ درجہ بالا سورتیں مع درود شریف کسی بھی تیل پہ پڑھ کے اسکی مالش کریں یا صرف پڑھ کے جسم پہ پھونک مار دینا بھی کافی ہے۔

• چھوٹےبڑے سبھی مریضوں کے لئے عمل کی کم ازکم مدت 21دن ہے۔ پانی ہو یا بچوں کے لئے تیل ، روزانہ نیا پڑھ کے استعمال کریں۔

• عمل ضرورت کے مطابق زیادہ دن تک بھی کر سکتے ہیں۔

خود بھی عمل کیجئے اور دوسروں کو بھی بتائیے۔اس فتنہ فساد کے دور میں یہ عمل سبھی کی ضرورت ہے۔اچھی بات بتانا " صدقہ جاریہ " ہے۔